بدھ، 2 ستمبر، 2026

(امام روزانہ فجر قضاکرے توکیاحکم ہے؟)

 

  (امام روزانہ فجر قضاکرے توکیاحکم ہے؟)

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں مسجد میں امام صاحب فجر میں اٹھ نہیں پاتے یعنی اگر کوئی اٹھانے والا نہ ہو تو اُن کی فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے اور مہینے میں کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے اس کا علم دو چار ہی لوگوں کو ہے جو فجر میں آتے ہیں تو کیا امام صاحب کی اقتداء میں نماز درست ہوگی یا نہیں ۔؟

سائل:رضوان رضا قادری سورت 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب

قصداً نماز قضا کرنا گناہ کبیرہ ہے ہاں گہری نیند کی وجہ سے کبھی کبھار نماز قضا ہو جانا ایک شرعی عذر ہے، لیکن اس کو عادت بنا لینا اور اس کا علاج نہ کرنا سخت گناہ اور غفلت میں شمار ہوتا ہے۔امام صاحب پر شرعاً واجب ہے کہ وہ بیدار ہونے کے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کریں (مثلاً: الارم لگانا، گھر والوں یا کسی مقتدی سے اٹھانے کی تنبیہ کرنا، رات کو جلدی سونا وغیرہ)۔ اگر وہ مذکور اسباب اختیار کرنے میں لاپرواہی برتتے ہیں تو یہ غفلت کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔ نمازوں کو قضا کرنے کے سبب ان پر توبہ و استغفار لازم و ضروری ہے.

فتاوی فقیہ ملت میں ہے:فجر کی نماز قضا کرنے میں اگر امام کی لاپرواہی کا دخل ہے تو وہ علانیہ توبہ واستغفار کرے اور پابندی نماز کی فکر کرے۔ عشاء بعد فوراً سو جائے تاکہ صبح جلد اٹھ سکے اور اگر امام استطاعت رکھتا ہو تو بلند آواز کی الارم گھڑی خریدے۔ اگر وہ نہیں خرید سکتا تو مقتدی چندہ کر کے خرید دیں۔ اگر وہ لوگ نہ خریدیں تو مسجد سے اس کا انتظام کریں۔ یا نمازیوں میں جو سب سے پہلے مسجد میں آتا ہو وہ امام کو جگا دیا کرے۔ یا مؤذن اگر تنخواہ دار ہو تو امام کا جگانا اس کے ذمہ لازم کر دیں۔

(جلد 1 صفحہ 122 مکتبہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھاگنج بستی)

اور ان کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں کراہت تنزیہی کے ساتھ ہو جائےگی، کیونکہ امام کا فعل مذکور پوشیدہ طور پر ہے جس سے کہ امام فاسق غیر معلن ہوا ، نا کہ اعلانیہ کہ فاسق معلن کہلاۓ کیوں کہ فاسق معلن (جس کا گناہ اعلانیہ ہو) کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں "لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لا تکرہ الاتنزیھا" کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے

فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب(فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 600/601 مکتبہ ادبی دنیا دہلی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ 

محمد معراج رضوی واحدی

ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only